Posts

Showing posts with the label Ali Zaryoun

Amjad Islam Amjad-Kamsin Ladki

امجد اسلام امجد کمسن لڑکی ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺁﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﭻ ﻣﭻ ﻣﻤﮑﻦ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ شہر ﮐﺎ ﮨﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﻋﻼﻗﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﻧﮕﻦ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﺮ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺍﮎ ﻣﻨﻈﺮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﻌﯿّﻦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﻮ ﻭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﻮﭼﻮ، ﻭﮦ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮮ ﺍﺱ ﮐﭽﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﺎﻧﮧ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﭼﻨﭽﻞ ﻟﮍﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺩﻝ ﺟﻮ ﺁﺝ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺭُﮎ ﮐﺮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍِﮎ ﺳﺎﯾﮧ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﻧﭩﺘﺎ ﭘِﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺻﺒﺢِ ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺷﺎﻡِ ﺍﺑﺪ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﮮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﺞ ﭘﮧ ﺳﻮﻧﮯ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﯿﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺮﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻨﻈﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻤﯿﺰ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ  🙂

ghazal-Mubashir wasil

مرے سوا جسے سب کچھ دکھائی دیتا ہے سنا ہے آج وہ مجھ کو دہائی دیتا ہے وہ بات تک نہ کرے مجھ سے غم نہیں مجھ کو وہ دشمنوں کو مگر کیوں رسائی دیتا ہے میں روز کھڑکی سے سنتا ہوں اس کی آوازیں نجانے روز وہ کس کو صفائی دیتا ہے جسے قریب دے دکھتا نہیں مرا چہرا سنا ہے دور تک اس کو دکھائی دیتا ہے وہی مروڑ کے رکھ دے گا ایک دن واصل تو جس کے ہاتھ میں اپنی کلائی دیتا ہے مبشر واصل

Farsi ghazal-Sufiyana (Raqsaam)

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم اگرچہ قطرۂ شبنم نپوئید بر سرِ خارے منم آں قطرۂ شبنم بنوکِ خار می رقصما تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم کہ عشقِ دوست ہر ساعت دروں نار می رقصم گاہےبر خاک می غلتم , گاہے بر خار می رقصم منم عثمانِ ھارونی کہ یارے شیخِ منصورم ملامت می کند خلقے و من برَ،دار می رقصم

Tehzeeb hafi Poetry

خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گا اس قدر خاک اڑاؤں گا ، قیامت کروں گا ۔ ہجر کی رات مری جان کو آٰ ئی ہوئی ہے بچ گیا تو میں محبت کی مذمت کروں گا ۔ تیری یادوں نے اگر ہاتھ بٹایا میرا اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مرمت کروں گا ۔ جس کی چھاؤں میں تجھے پہلے پہل دیکھا تھا میں اسی پیڑ کے نیچے تیری بیعت کروں گا ۔ اب ترے راز سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے میں کسی روز امانت میں خیانت کروں گا ۔ بس اسی ڈر سے کہ اعصاب نہ شل ہو جائیں میں اسے ہاتھ لگانے میں نہ عجلت کروں گا ۔ لیلتہ القدر گزاروں گا کسی جنگل میں نور برسے گا درختوں کی امامت کروں گا تہذیب حافی 💓

Ali zaryoun- Samjhain

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں حاسدوں سے یہ گزارش ہے ریاضت سمجھیں میرا بے ساختہ پن ان کے لئے خطرہ ہے ساختہ لوگ مجھے کیوں نہ مصیبت سمجھیں فیس بک وقت اگر دے تو یہ پیارے بچے اپنے خاموش بزرگوں کی شکایت سمجھیں پیش کرتا ہوں میں خود اپنی گرفتاری علیؔ ان سے کہنا کہ مجھے زیر حراست سمجھیں علی زریون
تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی عید اب کے بھی دبے پاوَں گزر جائے گی         ظفر اقبال

Ali Zaryoun Ghazal

Image
پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے  میں خوش نہیں ہوں تجھے خود میں مبتلا کر کے  اصولی طور پہ مر جانا چاہیے تھا مگر  مجھے سکون ملا ہے تجھے جدا کر کے  یہ کیوں کہا کہ تجھے مجھ سے پیار ہو جائے   تڑپ اٹھا ہوں ترے حق میں بد دعا کر کے  میں چاہتا ہوں خریدار پر یہ کھل جائے   نیا نہیں ہوں رکھا ہوں یہاں نیا کر کے میں جوتیوں میں بھی بیٹھا ہوں پورے مان کے ساتھ   کسی نے مجھ کو بلایا ہے التجا کر کے  بشر سمجھ کے کیا تھا نا یوں نظر انداز   لے میں بھی چھوڑ رہا ہوں تجھے خدا کر کے  تو پھر وہ روتے ہوئے منتیں بھی مانتے ہیں   جو انتہا نہیں کرتے ہیں ابتدا کر کے  بدل چکا ہے مرا لمس نفسیات اس کی   کہ رکھ دیا ہے اسے میں نے ان چھوا کر کے  منا بھی لوں گا گلے بھی لگاؤں گا میں علیؔ   ابھی تو دیکھ رہا ہوں اسے خفا کر کے علی زریون

Ali Zaryoun-"tumhari to nahi hay"

Image
حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے ایسا ہے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ہے تحقیر نہ کر یہ میری اودھڈی ہوئی گودھڈی  جیسی بھی ہے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے یہ تو جو محبت میں صلحہ مانگ رہا ہے اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے  مجعمے سے اُسے یوں بھی بہت چڈھ ہے کہ زریوں  عاشق ہے میری جان مداری تو نہیں ہے        علی زریون 

Ali zaryoun- "Janay day"

Image
قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے تو جو ہر روز نئے حُسن پہ مر جاتا ہے  تو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا جانے دے چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کہ دونو بھائی  جا چکی ہے نا تو بس چھوڈ چل آ جانے دے  تو کی جنگل میں لگی آگ سی بےساختہ ہے  خود پہ تہزیب کی چادر نہ چڈھا جابے دے  جابتا ہوں کہ تجھے کون سی تھی مجبوری  یوں میرے سامنے ٹسوئے نہ بہا جانے دے         جناب علی زریون