Ali zaryoun- "Janay day"



قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے
پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے

تو جو ہر روز نئے حُسن پہ مر جاتا ہے 
تو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا جانے دے

چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کہ دونو بھائی 
جا چکی ہے نا تو بس چھوڈ چل آ جانے دے 

تو کی جنگل میں لگی آگ سی بےساختہ ہے 
خود پہ تہزیب کی چادر نہ چڈھا جابے دے 

جابتا ہوں کہ تجھے کون سی تھی مجبوری 
یوں میرے سامنے ٹسوئے نہ بہا جانے دے 

       جناب علی زریون  

Share this

Related Posts

Previous
Next Post »