کیا یہی زندگی کا مقصد ہے








تحریر :نیک بانو
عنوان :کیا یہی زندگی کا مقصد ہے,
انسان اس دنیا میں آتا ہے زندگی بسر کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔کچھ اپنے اچھے اعمال کے ساتھ اور کچھ
گناہ کا ارتکاب کر کے۔کچھ انسانوں سے ہی بد دعا لے کے ۔
اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔بدقسمتی سے انسان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کو اس زندگی کا مقصد بھی نہیں پتہ اور نہ یہ جانتے ہیں ۔کہ کس مقصد کے تحت اسے اس دنیا میں اتنا عظیم رتبہ دے کے بھیجا گیا
بے مقصد زندگی کا کیا فائدہ۔جس میں صرف منا فقت ہو ، اپنی غرض ہو ، اپنا مقصد ہو ، انسان کو تکلیف دینا ہو
اس سے اس کی خوشی چھیننا ۔اسے کرب میں مبتلا کرنا اور اپنی ذات سے آگے کچھ نہ ہو۔جس میں نہ تو انسان ہونے کا شرف مل رہا اور نہ ہی زندگی کا مقصد وہ حاصل کر رہا۔
اللہ نے انسان کو اشرف المخلو قات کہ کر نوازا مگر انسانوں نے نہ نیکی دیکھی نہ اپنا رتبہ نہ رشتہ بس تکلیف دی اور رلایا اور میں نے اس کی زندگی میں کسی نیکی کو بھی نہیں دیکھا۔نہ اللہ کی عبادت اور نہ اس کا شکرانہ
بقول شاعر
زندگی آمد برائے زندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
میں نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا میں جتنے بھی منافقت کے کھلاڈی ہیں وہ انسا نوں کی زندگی ان کے جذبات اور ا حسا سات کے ساتھ فٹ بال یا کرکٹ کی طرح کھیل رہے ہیں ایک کھیل سمجھ کے
زندگی قدرت کی طرف ایک خوبصورتی کا نام ہے ،چند لمحو ں کی داستان ہے ،خوشبو ہے۔کسی عیش و عشرت کا نام نہیں زندگی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کا نام نہیں ۔لیکن بد قسمتی سے لوگوں کو ہم نے ہی بھکاری بنایا ۔دوسروں کی خوشی کو چھینا ۔انہیں کرب میں مبتلا کر کے رکھا۔انسان نے انسان کو ہی بے بس بنایا۔
خیر ہم اس سے با خبر ہیں کہ اسی انسان کے اندر جو روح ہے وہ کسی بھی وقت ایک طوفان کی شکل اختیا ر کر سکتی اور اپنی لپیٹ میں اس طرح لے کے جاتا ہے کہ ہمیں بھی خبر نہیں ہوتی
اس زندگی کے تجربے نے یہ بھی سکھا یا کہ زندگی عبادت ہے۔رہنمائی ہے۔آزمائش ہے
خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے اور.ہر انسان کے دل میں رب ہے
ہمارا حق نہیں کہ ہم کسی سے اس کی خوشی کو چھینے اور اسے کرب میں مبتلا کریں۔ورنہ خدا سب کی سنتا ہے اور وہ بہترین منصف ہے۔
Muharram Poetry Urdu

Muharram Poetry Urdu






ترے بیٹوں کو کہتے ہیں جواناںِ جناں بی بی س 
تیری چھوکٹ کا پتھر ہی درِ الماس بننتا ہے


جسے عصمت ملے تیری اُسے کیتے ہیں سب زینب س
دعا جس کو ملے تیری وہی عباس بنتا ہے



سلمان عاظمی




جنت کی آرزو میں کہاں جا رہے ہیں لوگ
جنت تو کربلا میں خریدا حُسین نے


دنیا و آخرت میں جو رہنا ہے چین سے
جینا علی سے سیکھ لو مرنا حُسین سے
Sher,Urdu sad poetry

Sher,Urdu sad poetry


قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا،

میں" آپ"وہ "جناب"سےآگےنہیں بڑھا،


مدت ھوئی کتابِ محبت شروع کیے،

لیکن میں پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا،


لمبی مسافتیں ہیں مگر اس سوار کا،
پاؤں ابھی رکاب سےآگے نہیں بڑھا

طولِ کلام کے لیےمیں نے کیے سوال،

وہ مختصر جواب سے آگے نہیں بڑھا،


لوگوں نے سنگ و خشت کے قلعے بنا لیے
اپنا محل تو خواب سے آگے نہیں بڑھا


رخسار کا پتہ نہیں آنکھیں تو خوب ھیں،
دیدار ابھی نقاب سے آگے نہیں بڑھا،


وہ لذتِ گناہ سے محروم رہ گیا

جو خواھشِ ثواب سے آگے نہیں بڑھا.

----------------------------------------------------------------------------
Qissa Abhi Hijjab Se Aagay Nahi Barha
Mein Aap, Woh, Janab Se Aagay Nahi Barha

Muddat Hui Kitab-e-Mohabbat Shurru Kiye
Lekin Mein Pehle Baab Se Aagay Nahi Barha

Lambi Musawatein hein Magar Iss Sawar Ka
Paaon Abhi Raqaab Se Aagay Nahi Barha

Tool-e-Kalam Kay Liye Mein Ne Kiye Sawal
Woh Mukhtassar Jawab Se Aagay nahi Barha

Rukhsaar Ka Pata Nahi Aankhen To Khob hein

Deedar Abhi Naqaab Se Agay Nahi Barha

Woh Lazat-e-Gunnah Se Mehroom Hee Raha
Jo Khuwahish-e-Sawab Se Aagay Nahi Barha


Ali Zaryoun Ghazal


پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے 
میں خوش نہیں ہوں تجھے خود میں مبتلا کر کے 


اصولی طور پہ مر جانا چاہیے تھا مگر 
مجھے سکون ملا ہے تجھے جدا کر کے 



یہ کیوں کہا کہ تجھے مجھ سے پیار ہو جائے 
تڑپ اٹھا ہوں ترے حق میں بد دعا کر کے 


میں چاہتا ہوں خریدار پر یہ کھل جائے 
نیا نہیں ہوں رکھا ہوں یہاں نیا کر کے


میں جوتیوں میں بھی بیٹھا ہوں پورے مان کے ساتھ 
کسی نے مجھ کو بلایا ہے التجا کر کے 


بشر سمجھ کے کیا تھا نا یوں نظر انداز 
لے میں بھی چھوڑ رہا ہوں تجھے خدا کر کے 


تو پھر وہ روتے ہوئے منتیں بھی مانتے ہیں 
جو انتہا نہیں کرتے ہیں ابتدا کر کے 


بدل چکا ہے مرا لمس نفسیات اس کی 
کہ رکھ دیا ہے اسے میں نے ان چھوا کر کے 


منا بھی لوں گا گلے بھی لگاؤں گا میں علیؔ 
ابھی تو دیکھ رہا ہوں اسے خفا کر کے


علی زریون




Ali Zaryoun-"tumhari to nahi hay"






حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے
ایسا ہے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ہے

تحقیر نہ کر یہ میری اودھڈی ہوئی گودھڈی 
جیسی بھی ہے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے

یہ تو جو محبت میں صلحہ مانگ رہا ہے
اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے 

مجعمے سے اُسے یوں بھی بہت چڈھ ہے کہ زریوں 
عاشق ہے میری جان مداری تو نہیں ہے 

      علی زریون 

Ali zaryoun- "Janay day"



قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے
پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے

تو جو ہر روز نئے حُسن پہ مر جاتا ہے 
تو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا جانے دے

چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کہ دونو بھائی 
جا چکی ہے نا تو بس چھوڈ چل آ جانے دے 

تو کی جنگل میں لگی آگ سی بےساختہ ہے 
خود پہ تہزیب کی چادر نہ چڈھا جابے دے 

جابتا ہوں کہ تجھے کون سی تھی مجبوری 
یوں میرے سامنے ٹسوئے نہ بہا جانے دے 

       جناب علی زریون