Posts

Showing posts from September, 2019

Ali zaryoun- Samjhain

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں حاسدوں سے یہ گزارش ہے ریاضت سمجھیں میرا بے ساختہ پن ان کے لئے خطرہ ہے ساختہ لوگ مجھے کیوں نہ مصیبت سمجھیں فیس بک وقت اگر دے تو یہ پیارے بچے اپنے خاموش بزرگوں کی شکایت سمجھیں پیش کرتا ہوں میں خود اپنی گرفتاری علیؔ ان سے کہنا کہ مجھے زیر حراست سمجھیں علی زریون

poetry urdu-ghazal

                  جسم کے دام کفن کو خرید کہ جس نے یہ زانی کا داغ رکھا ہ                  اس نے پتا نہیں کتنے ہی لوگوں کی آبرو کا یہ سراغ رکھا ہ  ایک لقب ملا ہے یہ یتیم ہونے پہ اور ایسا لقب ملا مجھ کو  ہاں مرے پاس یہ آبرو ہے جسے میں نے بنا کے چراغ رکھا ہے  ایسے ڈرے ہیں ہم اور ہمارے رقیب زمانےکی چال سے کہ  بازوں میں قوتِ دم ہے مگر ہم نے ساتھ میں یہ چماغ رکھا ہے  یہ مجھے ورثے میں ایسی زمینیں مل رہی ہیں کہ کیا کہوں اب میں  اشک ہیں پلکوں پہ یوں اور ان میں بھی زہر کا خاص سراغ رکھا ہے  اتنی ہے آرزو جینے کی , روز غموں کا پیالہ لے کر بھی میں عافی  یہ مرے جسم کی ان رگوں نے جینےکا بڑا اچھا دماع رکھا ہے