Skip to main content

Ali zaryoun- Samjhain


خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں
یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں

میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ
میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں

میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام
آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں

میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں
حاسدوں سے یہ گزارش ہے ریاضت سمجھیں

میرا بے ساختہ پن ان کے لئے خطرہ ہے
ساختہ لوگ مجھے کیوں نہ مصیبت سمجھیں

فیس بک وقت اگر دے تو یہ پیارے بچے
اپنے خاموش بزرگوں کی شکایت سمجھیں

پیش کرتا ہوں میں خود اپنی گرفتاری علیؔ
ان سے کہنا کہ مجھے زیر حراست سمجھیں
علی زریون

Comments

Popular posts from this blog

Ali zaryoun- "Janay day"

قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے
تو جو ہر روز نئے حُسن پہ مر جاتا ہے  تو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا جانے دے
چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کہ دونو بھائی  جا چکی ہے نا تو بس چھوڈ چل آ جانے دے 
تو کی جنگل میں لگی آگ سی بےساختہ ہے  خود پہ تہزیب کی چادر نہ چڈھا جابے دے 
جابتا ہوں کہ تجھے کون سی تھی مجبوری  یوں میرے سامنے ٹسوئے نہ بہا جانے دے 
       جناب علی زریون  

Ali Zaryoun-"tumhari to nahi hay"

حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے ایسا ہے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ہے
تحقیر نہ کر یہ میری اودھڈی ہوئی گودھڈی  جیسی بھی ہے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے
یہ تو جو محبت میں صلحہ مانگ رہا ہے اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے 
مجعمے سے اُسے یوں بھی بہت چڈھ ہے کہ زریوں  عاشق ہے میری جان مداری تو نہیں ہے 
      علی زریون

Urdu Poetry

مُصوَروں سے بنائی ہی جا سکی نہ تیری آنا کی تصویر نہ بے حسی کی غرور کی اور نہ تیری حسنِ بلا کی تصویر
قضا کی یا خیمہ گاہ کی یا پھر بلند نوکِ سِنا کی تصویر  یہ رنگ و کاغز میں قید ہوتی نہیں ہے کربوبلا کی تصویر

بنا کہ کاغز وجود کو دھڈکنوں کی سیاہی سے رنگ بھر ک بنا رہا ہے کوئی فرشتہ مجھ ہی میں میری قضا کی تصویر


ایاز حسین تاثیر