Posts

Showing posts with the label urdu poetry

Amin Sheikh Poetry Urdu

Image
یہ دل کہ جان کو آیا ہوا تھا کیا کرتا نیا نیا وہ پرایا ہوا تھا کیا کرتا پٹخ رہی تھی اَ دھر سے اُدھر حیات مجھے میں اس کے ہاتھ میں آیا ہوا تھا کیا کرتا نہ چاہتے مجھے دُشمن کے ساتھ چلنا پڑا میں دوستوں کا ستایا ہوا تھا کیا کرتا وہ جس کے سائے سے ہمسائے فیض یاب ہوئے وہ پیڑ میرا لگایا ہوا تھا کیا کرتا بنی نہیں جو زمیں سے قصور کیا میرا میں آسمان سے لایا ہوا تھا کیا کرتا وہ جس پے بند کیے میں نے گھر کے دروازے وہ میرے خواب میں آیا ہوا تھا کیا کرتا میں واقعے کا اکیلا گواہ تھا اور امینؔ میں یرغمال بنایا ہوا تھا کیا کرتا امینؔ شیخ

Amjad Islam Amjad-Kamsin Ladki

امجد اسلام امجد کمسن لڑکی ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺁﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﭻ ﻣﭻ ﻣﻤﮑﻦ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ شہر ﮐﺎ ﮨﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﻋﻼﻗﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﻧﮕﻦ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﺮ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺍﮎ ﻣﻨﻈﺮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﻌﯿّﻦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﻮ ﻭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﻮﭼﻮ، ﻭﮦ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮮ ﺍﺱ ﮐﭽﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﺎﻧﮧ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﭼﻨﭽﻞ ﻟﮍﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺩﻝ ﺟﻮ ﺁﺝ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺭُﮎ ﮐﺮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍِﮎ ﺳﺎﯾﮧ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﻧﭩﺘﺎ ﭘِﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺻﺒﺢِ ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺷﺎﻡِ ﺍﺑﺪ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﮮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﺞ ﭘﮧ ﺳﻮﻧﮯ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﯿﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺮﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻨﻈﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻤﯿﺰ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ  🙂

Ali zaryoun- Samjhain

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں حاسدوں سے یہ گزارش ہے ریاضت سمجھیں میرا بے ساختہ پن ان کے لئے خطرہ ہے ساختہ لوگ مجھے کیوں نہ مصیبت سمجھیں فیس بک وقت اگر دے تو یہ پیارے بچے اپنے خاموش بزرگوں کی شکایت سمجھیں پیش کرتا ہوں میں خود اپنی گرفتاری علیؔ ان سے کہنا کہ مجھے زیر حراست سمجھیں علی زریون
تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی عید اب کے بھی دبے پاوَں گزر جائے گی         ظفر اقبال

Urdu Poetry

Image
                                       مُصوَروں سے بنائی ہی جا سکی نہ تیری آنا کی تصویر نہ بے حسی کی غرور کی اور نہ تیری حسنِ بلا کی تصویر قضا کی یا خیمہ گاہ کی یا پھر بلند نوکِ سِنا کی تصویر  یہ رنگ و کاغز میں قید ہوتی نہیں ہے کربوبلا کی تصویر بنا کہ کاغز وجود کو دھڈکنوں کی سیاہی سے رنگ بھر ک بنا رہا ہے کوئی فرشتہ مجھ ہی میں میری قضا کی تصویر ایاز حسین تاثیر