Posts

Showing posts with the label romantic urdu shayari best urdu poetry

Momin khan Momin Ghazal

Image
اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا... رنج، راحت فزا نہیں ہوتا... بے وفا کہنے کی شکایت ہے... تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا... ذکرِ اغیار سے ہوا معلوم... حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا... کس کو ہے ذوقِ تلخ کامی لیک... جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا... تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے... ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا... اُس نے کیا جانے کیا کِیا لے کر... دل کسی کام کا نہیں ہوتا... امتحان کیجئے مِرا جب تک... شوق زور آزما نہیں ہوتا... ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے... تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا... آہ طولِ امل ہے روز فزوں... گرچہ اک مُدّعا نہیں ہوتا... تم مِرے پاس ہوتے ہو گویا... جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا... حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر... ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا... رحم بر خصمِ جانِ غیر نہ ہو... سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا... دامن اُس کا جو ہے دراز تو ہو... دستِ عاشق رسا نہیں ہوتا... چارۂِ دل سوائے صبر نہیں... سو تمہارے سوا نہیں ہوتا... کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومنؔ..! صنم آخر خدا نہیں ہوتا... ؎ مومن خان مومنؔ Asar Us ko Zara Nahin Hota... Ranj, Rahat-Faza Nahin Hota... Bewafa Kahne ki Shik...

Ghazal Urdu poetry

Image
بچوں کی طرح وقت بتانے میں لگے ہیں دیوار پہ ہم پھول بنانے میں لگے ہیں دھونے سے بھی جاتی نہیں اس ہاتھ کی خوشبو ہم ہاتھ چھڑا کر بھی چھڑانے میں لگے ہیں لگتا ہے وہی دن ہی گزارے ہیں تیرے ساتھ وہ دن جو تجھے اپنا بنانے میں لگے ہیں لوری جو سنی تھی وہی بچوں کو سنا کر ہم دیکھے ہوئے خواب دکھانے میں لگے ہیں دیوار کے اس پار نہیں دیکھ رہے کیا یہ لوگ جو دیوار گرانے میں لگے ہیں ہر لقمہِ تر خون میں تر ہے تو عجب کیا ہم رزق نہیں ظلم کمانے میں لگے ہیں افسوس کہ یہ شہر جنہیں پال رہا ہے دیمک کی طرح شہر کو کھانے میں لگے ہیں

GHAZAL URDU- POETRY

عشق کے نام پہ خیرات بھی لے لیتے ہیں یہ وہ صدقہ ہے جو سادات بھی لے لیتے ہیں مشکلوں میں مرے پلنے پہ تعجب کیسا جڑ سے تھوڑی سی نمو، پات بھی لے لیتے ہیں یہ جو آتے ہیں تجھے روز دلاسا دینے باتوں باتوں میں تری بات بھی لے لیتے ہیں دشت میں آئے ہیں تو، قیس سے بھی ملتے چلیں خضرِ صحرا سے ہدایات بھی لے لیتے ہیں صرف گھر تک ہی نہیں گوشہ نشینی اپنی میلوں ٹھیلوں میں اسے ساتھ بھی لے لیتے ہیں ان دنوں شعر میں بھی شعبدہ بازی ہے بہت بعض تو اوروں کی خدمات بھی لے لیتے ہیں        رانا سعید دوشی              ـ              ISHQ K NAM PE KHAIRAT B LAY LAYTAIN HAIN YAE WO SADQA HAY JO SAADAAT B LAY LAYTAY HAIN MUSHKILON MAY MERAY PALNAY PE TA'AJJUB KAISA JAD SAY THORI SI NAMO PAAT B LAY LAYTAY HAIN YAE JO AATAY HAIN TUGHE ROZ DILAASA DAYNA BATON BATON MAY TERI BAAT B LAY LAYTAY HAIN DASHT MAY AAYAE HAIN TO QAIS SAY B MILTAY CHALAIN KHIZER E SEHRA SAY HIDAYAAT B LAY LAYTAY HAIN SIRF...

ghazal-Mubashir wasil

مرے سوا جسے سب کچھ دکھائی دیتا ہے سنا ہے آج وہ مجھ کو دہائی دیتا ہے وہ بات تک نہ کرے مجھ سے غم نہیں مجھ کو وہ دشمنوں کو مگر کیوں رسائی دیتا ہے میں روز کھڑکی سے سنتا ہوں اس کی آوازیں نجانے روز وہ کس کو صفائی دیتا ہے جسے قریب دے دکھتا نہیں مرا چہرا سنا ہے دور تک اس کو دکھائی دیتا ہے وہی مروڑ کے رکھ دے گا ایک دن واصل تو جس کے ہاتھ میں اپنی کلائی دیتا ہے مبشر واصل

Farsi ghazal-Sufiyana (Raqsaam)

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم اگرچہ قطرۂ شبنم نپوئید بر سرِ خارے منم آں قطرۂ شبنم بنوکِ خار می رقصما تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم کہ عشقِ دوست ہر ساعت دروں نار می رقصم گاہےبر خاک می غلتم , گاہے بر خار می رقصم منم عثمانِ ھارونی کہ یارے شیخِ منصورم ملامت می کند خلقے و من برَ،دار می رقصم

Ali zaryoun- Samjhain

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں حاسدوں سے یہ گزارش ہے ریاضت سمجھیں میرا بے ساختہ پن ان کے لئے خطرہ ہے ساختہ لوگ مجھے کیوں نہ مصیبت سمجھیں فیس بک وقت اگر دے تو یہ پیارے بچے اپنے خاموش بزرگوں کی شکایت سمجھیں پیش کرتا ہوں میں خود اپنی گرفتاری علیؔ ان سے کہنا کہ مجھے زیر حراست سمجھیں علی زریون

Sher,Urdu sad poetry

قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا، میں" آپ"وہ "جناب"سےآگےنہیں بڑھا، مدت ھوئی کتابِ محبت شروع کیے، لیکن میں پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا، لمبی مسافتیں ہیں مگر اس سوار کا، پاؤں ابھی رکاب سےآگے نہیں بڑھا طولِ کلام کے لیےمیں نے کیے سوال، وہ مختصر جواب سے آگے نہیں بڑھا، لوگوں نے سنگ و خشت کے قلعے بنا لیے اپنا محل تو خواب سے آگے نہیں بڑھا رخسار کا پتہ نہیں آنکھیں تو خوب ھیں، دیدار ابھی نقاب سے آگے نہیں بڑھا، وہ لذتِ گناہ سے محروم رہ گیا جو خواھشِ ثواب سے آگے نہیں بڑھا. ---------------------------------------------------------------------------- Qissa Abhi Hijjab Se Aagay Nahi Barha Mein Aap, Woh, Janab Se Aagay Nahi Barha Muddat Hui Kitab-e-Mohabbat Shurru Kiye Lekin Mein Pehle Baab Se Aagay Nahi Barha Lambi Musawatein hein Magar Iss Sawar Ka Paaon Abhi Raqaab Se Aagay Nahi Barha Tool-e-Kalam Kay Liye Mein Ne Kiye Sawal Woh Mukhtassar...