ghazal-Mubashir wasil
مرے سوا جسے سب کچھ دکھائی دیتا ہے سنا ہے آج وہ مجھ کو دہائی دیتا ہے وہ بات تک نہ کرے مجھ سے غم نہیں مجھ کو وہ دشمنوں کو مگر کیوں رسائی دیتا ہے میں روز کھڑکی سے سنتا ہوں اس کی آوازیں نجانے روز وہ کس کو صفائی دیتا ہے جسے قریب دے دکھتا نہیں مرا چہرا سنا ہے دور تک اس کو دکھائی دیتا ہے وہی مروڑ کے رکھ دے گا ایک دن واصل تو جس کے ہاتھ میں اپنی کلائی دیتا ہے مبشر واصل