Posts

Showing posts with the label Jaun Elia

ghazal-Mubashir wasil

مرے سوا جسے سب کچھ دکھائی دیتا ہے سنا ہے آج وہ مجھ کو دہائی دیتا ہے وہ بات تک نہ کرے مجھ سے غم نہیں مجھ کو وہ دشمنوں کو مگر کیوں رسائی دیتا ہے میں روز کھڑکی سے سنتا ہوں اس کی آوازیں نجانے روز وہ کس کو صفائی دیتا ہے جسے قریب دے دکھتا نہیں مرا چہرا سنا ہے دور تک اس کو دکھائی دیتا ہے وہی مروڑ کے رکھ دے گا ایک دن واصل تو جس کے ہاتھ میں اپنی کلائی دیتا ہے مبشر واصل

Ali zaryoun- Samjhain

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں حاسدوں سے یہ گزارش ہے ریاضت سمجھیں میرا بے ساختہ پن ان کے لئے خطرہ ہے ساختہ لوگ مجھے کیوں نہ مصیبت سمجھیں فیس بک وقت اگر دے تو یہ پیارے بچے اپنے خاموش بزرگوں کی شکایت سمجھیں پیش کرتا ہوں میں خود اپنی گرفتاری علیؔ ان سے کہنا کہ مجھے زیر حراست سمجھیں علی زریون

Ali Zaryoun-"tumhari to nahi hay"

Image
حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے ایسا ہے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ہے تحقیر نہ کر یہ میری اودھڈی ہوئی گودھڈی  جیسی بھی ہے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے یہ تو جو محبت میں صلحہ مانگ رہا ہے اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے  مجعمے سے اُسے یوں بھی بہت چڈھ ہے کہ زریوں  عاشق ہے میری جان مداری تو نہیں ہے        علی زریون 

Ali zaryoun- "Janay day"

Image
قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے تو جو ہر روز نئے حُسن پہ مر جاتا ہے  تو بتائے گا مجھے عشق ہے کیا جانے دے چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کہ دونو بھائی  جا چکی ہے نا تو بس چھوڈ چل آ جانے دے  تو کی جنگل میں لگی آگ سی بےساختہ ہے  خود پہ تہزیب کی چادر نہ چڈھا جابے دے  جابتا ہوں کہ تجھے کون سی تھی مجبوری  یوں میرے سامنے ٹسوئے نہ بہا جانے دے         جناب علی زریون  

Biography of Jaun Elia

Image
                                                Jaun Elia  Jaun Elia was born on December 14, 1931 in a distinguished family of Amroha, Uttar Pradesh. He was the youngest of his siblings. His father, Allama Shafiq Hasan Elia, was deeply involved in art and literature and also an astrologer and a poet. This literary environment modeled him along the same lines, and he wrote his first Urdu couplet when he was just 8 years. His first poetry collection Shayad  ("Maybe") was published when he was 60. The poetry presented in this collection added Jaun Elia's name in the Urdu literary canon forever. Jaun Elia's preface in this collection provided deep insights into his works and the culture within which he was expressing his ideas. The preface can also be considered as one of the finest examples of modern Urdu prose. It covered his intellectual evolution in...

Jaun Elia Sarkar

Image
دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو آزادگی میں شرط بھی ہے احتیاط کی پرواز کا ہے ازن مگر پر سمیٹ لو حملہ ہے چار سو در ودیوار شہر کا سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو بکھرا ہوا ہوں صرصر شام فراق سے اب آ بھی جاؤ اور مجھے آ کر سمیٹ لو رکھتا نہیں ہے کوئی نگفتہ کا یاں حساب جو کچھ ہے دل میں اسکو لبوں پر سمیٹ لو جون ایلیا