Posts

Showing posts with the label urdu shayari in urdu

Itbak Ibrak Poetry

اب تک یہی سنا تھا کہ بازار بک گئے اس کی گلی گئے تو خریدار بک گئے لگنے لگیں ہیں مجھ سے بھی ناقص کی بولیاں یعنی جہاں کے سارے ہی شہکار بک گئے جس نے ہمیں خریدا منافع کما لیا اپنا ہے یہ کمال کہ ہر بار بک گئے انجام یہ نہیں تھا کہانی کا اصل میں کیا کیجئے کہ بیچ میں کردار بک گئے جنگل کی دھوپ میں بھی نہ سایہ ہمیں ملا قیمت لگی تو دیکھئے اشجار بک گئے اتنا تو فرق ہے چلو اپنوں میں غیر میں اپنے تھے شرم سار، مگر یار بک گئے مت پوچھ ان کا بکتے محبت کے مول جو روئے تمام عمر کہ بے کار بک گئے کیجے شکایتیں بھلا اب کس کے روبرو قاضی بکا یہاں، یہاں دربار بک گئے تلوار کی جگہ وہاں بنتی ہیں چوڑیاں جس جس قبیلے کے یہاں سردار بک گئے لازم ہے رکھئے اپنی نظر آستین پر سننے میں آ رہا ہے نمک خوار بک گئے ابرک وفا کشی کا کوئی بیج تجھ میں ہے یونہی نہیں ہیں سارے طلب گار بک گئے .......... اتباف ابرک

GHAZAL URDU- POETRY

عشق کے نام پہ خیرات بھی لے لیتے ہیں یہ وہ صدقہ ہے جو سادات بھی لے لیتے ہیں مشکلوں میں مرے پلنے پہ تعجب کیسا جڑ سے تھوڑی سی نمو، پات بھی لے لیتے ہیں یہ جو آتے ہیں تجھے روز دلاسا دینے باتوں باتوں میں تری بات بھی لے لیتے ہیں دشت میں آئے ہیں تو، قیس سے بھی ملتے چلیں خضرِ صحرا سے ہدایات بھی لے لیتے ہیں صرف گھر تک ہی نہیں گوشہ نشینی اپنی میلوں ٹھیلوں میں اسے ساتھ بھی لے لیتے ہیں ان دنوں شعر میں بھی شعبدہ بازی ہے بہت بعض تو اوروں کی خدمات بھی لے لیتے ہیں        رانا سعید دوشی              ـ              ISHQ K NAM PE KHAIRAT B LAY LAYTAIN HAIN YAE WO SADQA HAY JO SAADAAT B LAY LAYTAY HAIN MUSHKILON MAY MERAY PALNAY PE TA'AJJUB KAISA JAD SAY THORI SI NAMO PAAT B LAY LAYTAY HAIN YAE JO AATAY HAIN TUGHE ROZ DILAASA DAYNA BATON BATON MAY TERI BAAT B LAY LAYTAY HAIN DASHT MAY AAYAE HAIN TO QAIS SAY B MILTAY CHALAIN KHIZER E SEHRA SAY HIDAYAAT B LAY LAYTAY HAIN SIRF...

Farsi ghazal-Sufiyana (Raqsaam)

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم اگرچہ قطرۂ شبنم نپوئید بر سرِ خارے منم آں قطرۂ شبنم بنوکِ خار می رقصما تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم کہ عشقِ دوست ہر ساعت دروں نار می رقصم گاہےبر خاک می غلتم , گاہے بر خار می رقصم منم عثمانِ ھارونی کہ یارے شیخِ منصورم ملامت می کند خلقے و من برَ،دار می رقصم

poetry urdu-ghazal

                  جسم کے دام کفن کو خرید کہ جس نے یہ زانی کا داغ رکھا ہ                  اس نے پتا نہیں کتنے ہی لوگوں کی آبرو کا یہ سراغ رکھا ہ  ایک لقب ملا ہے یہ یتیم ہونے پہ اور ایسا لقب ملا مجھ کو  ہاں مرے پاس یہ آبرو ہے جسے میں نے بنا کے چراغ رکھا ہے  ایسے ڈرے ہیں ہم اور ہمارے رقیب زمانےکی چال سے کہ  بازوں میں قوتِ دم ہے مگر ہم نے ساتھ میں یہ چماغ رکھا ہے  یہ مجھے ورثے میں ایسی زمینیں مل رہی ہیں کہ کیا کہوں اب میں  اشک ہیں پلکوں پہ یوں اور ان میں بھی زہر کا خاص سراغ رکھا ہے  اتنی ہے آرزو جینے کی , روز غموں کا پیالہ لے کر بھی میں عافی  یہ مرے جسم کی ان رگوں نے جینےکا بڑا اچھا دماع رکھا ہے

Sher,Urdu sad poetry

قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا، میں" آپ"وہ "جناب"سےآگےنہیں بڑھا، مدت ھوئی کتابِ محبت شروع کیے، لیکن میں پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا، لمبی مسافتیں ہیں مگر اس سوار کا، پاؤں ابھی رکاب سےآگے نہیں بڑھا طولِ کلام کے لیےمیں نے کیے سوال، وہ مختصر جواب سے آگے نہیں بڑھا، لوگوں نے سنگ و خشت کے قلعے بنا لیے اپنا محل تو خواب سے آگے نہیں بڑھا رخسار کا پتہ نہیں آنکھیں تو خوب ھیں، دیدار ابھی نقاب سے آگے نہیں بڑھا، وہ لذتِ گناہ سے محروم رہ گیا جو خواھشِ ثواب سے آگے نہیں بڑھا. ---------------------------------------------------------------------------- Qissa Abhi Hijjab Se Aagay Nahi Barha Mein Aap, Woh, Janab Se Aagay Nahi Barha Muddat Hui Kitab-e-Mohabbat Shurru Kiye Lekin Mein Pehle Baab Se Aagay Nahi Barha Lambi Musawatein hein Magar Iss Sawar Ka Paaon Abhi Raqaab Se Aagay Nahi Barha Tool-e-Kalam Kay Liye Mein Ne Kiye Sawal Woh Mukhtassar...

Urdu Poetry

Image
                                       مُصوَروں سے بنائی ہی جا سکی نہ تیری آنا کی تصویر نہ بے حسی کی غرور کی اور نہ تیری حسنِ بلا کی تصویر قضا کی یا خیمہ گاہ کی یا پھر بلند نوکِ سِنا کی تصویر  یہ رنگ و کاغز میں قید ہوتی نہیں ہے کربوبلا کی تصویر بنا کہ کاغز وجود کو دھڈکنوں کی سیاہی سے رنگ بھر ک بنا رہا ہے کوئی فرشتہ مجھ ہی میں میری قضا کی تصویر ایاز حسین تاثیر