Posts

Showing posts with the label POETS

Momin khan Momin Ghazal

Image
اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا... رنج، راحت فزا نہیں ہوتا... بے وفا کہنے کی شکایت ہے... تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا... ذکرِ اغیار سے ہوا معلوم... حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا... کس کو ہے ذوقِ تلخ کامی لیک... جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا... تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے... ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا... اُس نے کیا جانے کیا کِیا لے کر... دل کسی کام کا نہیں ہوتا... امتحان کیجئے مِرا جب تک... شوق زور آزما نہیں ہوتا... ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے... تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا... آہ طولِ امل ہے روز فزوں... گرچہ اک مُدّعا نہیں ہوتا... تم مِرے پاس ہوتے ہو گویا... جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا... حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر... ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا... رحم بر خصمِ جانِ غیر نہ ہو... سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا... دامن اُس کا جو ہے دراز تو ہو... دستِ عاشق رسا نہیں ہوتا... چارۂِ دل سوائے صبر نہیں... سو تمہارے سوا نہیں ہوتا... کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومنؔ..! صنم آخر خدا نہیں ہوتا... ؎ مومن خان مومنؔ Asar Us ko Zara Nahin Hota... Ranj, Rahat-Faza Nahin Hota... Bewafa Kahne ki Shik...

Munir Niazi Ghazal

Image
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خُمار میں ہوں... تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں اِنتظار میں ہوں... مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں... میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں... درِ فصیل کُھلا یا پہاڑ سر سے ہٹا... میں اَب گِری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں ہوں... بس اِتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب... رُکا ہوا ہوں سفر میں کسی دیار میں ہوں.... میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ... یہ کیسا جبر ہے؟ میں جس کے اِختیار میں ہوں... منیرؔ دیکھ شجر چاند اور دیواریں... ہوا خزاں کی ہے سر پر شبِ بہار میں ہوں... ؎ منیرؔ نیازی Yeh Kaisa Nasha hai Main Kis Ajab Khumaar mein hun... Tu Aa ke Ja bhi Chuka hai, Main intezar mein hun... Makaan hai Qabar Jise Log Khud Banate hain... Main Apne Ghar mein hun ya Main kisi Mazaar mein hun... Dar-e-Faseel Khula ya Paharr Sar se Hatta... Main ab Giri hui Galiyon ke Marg-Zar mein hun... Bas itna Hosh hai Mujh ko kh Ajnabi hain Sab... Ruka hua hun Safar mein Kisi Dayaar mein hun... Main hun bhi aur Nahi bhi Ajeeb baat ...

کیا یہی زندگی کا مقصد ہے

Image
تحریر :نیک بانو عنوان :کیا یہی زندگی کا مقصد ہے, انسان اس دنیا میں آتا ہے زندگی بسر کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔کچھ اپنے اچھے اعمال کے ساتھ اور کچھ گناہ کا ارتکاب کر کے۔کچھ انسانوں سے ہی بد دعا لے کے ۔ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔بدقسمتی سے انسان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کو اس زندگی کا مقصد بھی نہیں پتہ اور نہ یہ جانتے ہیں ۔کہ کس مقصد کے تحت اسے اس دنیا میں اتنا عظیم رتبہ دے کے بھیجا گیا بے مقصد زندگی کا کیا فائدہ۔جس میں صرف منا فقت ہو ، اپنی غرض ہو ، اپنا مقصد ہو ، انسان کو تکلیف دینا ہو اس سے اس کی خوشی چھیننا ۔اسے کرب میں مبتلا کرنا اور اپنی ذات سے آگے کچھ نہ ہو۔جس میں نہ تو انسان ہونے کا شرف مل رہا اور نہ ہی زندگی کا مقصد وہ حاصل کر رہا۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلو قات کہ کر نوازا مگر انسانوں نے نہ نیکی دیکھی نہ اپنا رتبہ نہ رشتہ بس تکلیف دی اور رلایا اور میں نے اس کی زندگی میں کسی نیکی کو بھی نہیں دیکھا۔نہ اللہ کی عبادت اور نہ اس کا شکرانہ بقول شاعر زندگی آمد برائے زندگی زندگی بے بندگی شرمندگی میں نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا میں جتنے بھی منافقت کے کھلاڈی ہیں وہ انسا نوں کی زندگی...

Sad Urdu Poetry

Image
ابنِ آدم تو میرے حق میں دعا رہنے دے اس تماشے کو حقیقت سے جدا رہنے دے اس یہ غصے کی ادا اور حسیں لگتی ہے میرے روٹھے ہوئے ساتھی کو خفا رہنے دے ایاز حسین تاثیرؔ